Thursday, 13 October 2016

موبائل فونز کے کی پیڈ پر # اور * کے بٹن کیوں ہوتے ہیں؟

کیا آپ کو معلوم ہے موبائل فونز کے کی پیڈ پر # اور * کے بٹن کیوں ہوتے ہیں؟جانئے وہ بات جو بہت ہی کم لوگوں کو معلوم ہے10/October/2016, 21:13dailypakistanنیویارک )نیوز ڈیسک( کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے، یعنی انسان کو جب کوئی ضرورت محسوسہوتی ہے تو وہ اسے پورا کرنے کے لئے کوئی چیز ایجاد کرلیتا ہے، لیکن آپ کے موبائل فون پر بکثرت استعمال ہونے والی دو علامتوں اسٹیرک )*( اورہیش )#( کا معاملہ بالکل اُلٹ ہے۔ یقینا یہ ایک نادر مثال ہے کہ جب یہ دو علامات ٹیلی فون کے کی پیڈ کا حصہ بنیں تو ان کا استعمال کسی کو معلومنہیں تھا، حتیٰ کہ انہیں متعارف کروانے والی کمپنی کو بھی نہیں۔پکسل سمارٹ فونز ”واٹر رزسٹنٹ“ ہیں یا نہیں؟ گوگل نے ایسی تفصیلات بتا دیں جنہیں سن کر بہت سے صارفین۔۔۔ویب سائٹ سالڈ سگنل بلاگ کی رپورٹ کے مطابققدیم طرز کے ٹیلیفون کا استعمال بیسویں صدی کے آغاز میں ہی شروع ہوگیا تھا لیکن اسٹیرک اور ہیش کی علامات 1968ءمیں ٹیلیفون کے کی پیڈ کا حصہ بنیں۔ اس وقت کے ٹیلیفون ٹچ ٹون کی پیڈ استعمال کرتے تھے، یعنی ان پر موجود کسی بٹن کو دبانے سے دو آوازیں پیدا ہوتی تھیں، جنہیں سن کر ٹیلیفون سسٹم فیصلہ کرتا تھا کہکونسا نمبر دبایا گیا ہے۔ ان دوباتوں کے امتزاج سے کل 12 مختلف اشارے پیدا کئے جاسکتے تھے، لیکن ٹیلیفون کے کی پیڈ پر صرف 0 سے لے کر9 تک ہندسے تھے، یعنی کل 10 ہندسے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ تین قطاروں میں کل 9ہندسے تھے جبکہ آخری قطار میں صرف 0تھا، جبکہ اس کے دائیں اور بائیں خالی جگہ تھی۔ٹیکنالوجی کمپنی AT&T نے 1968ءمیں فیصلہ کیا کہ صفر کے دائیں بائیں بھی دو بٹن لگادئیے جائیں، تاکہ کی پیڈ دیکھنے میں اچھا لگے۔ ابیہ سوال کھڑا ہوا کہ ان دو بٹنوں پر کونسے ہندسے لکھے جائیں، کیونکہ اس وقت نمبر ڈائل کرنے کے لئے صرف 0 سے لے کر 9 تک کے اعداد ہی استعمال ہوتے تھے۔ کمپنی نے فیصلہ کیا کہ دو نئے بٹنوں پر اسٹیرک اور ہیش کی علامات لکھ دی جائیں، اگرچہ اس وقت ان کا کوئی استعمال نہیں تھا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ شایدبعدازاں ٹیلی فون صارفین خود ہی ان کا کوئی استعمال ڈھونڈ لیں گے، اور واقعی بعد میں ایسا ہی ہوا۔تقریباً ایک دہائی بعد ٹیلی فون صارفین کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی اس نتیجےپر پہنچی کہ اسٹیرک )*( کے بٹن کو کال بیک کےلئے استعمال کیا جائے، اور اسی طرح ہیش )#( کے بٹن کو بعد ازاں وائس میل سسٹمز کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ سب سے پہلے *69کا کوڈ وضع کیا گیا، جو اس وقت کال بیک کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد کے دور میں موبائل فون اور کمپیوٹرز کے وسیع استعمال نے ان دو علامات کے متعدد نئے استعمالات بھی متعارف کروادئیے۔

مغربی ماڈل نے فحش حرکتوں سے توبہ کرکے اسلام قبول کرلیا

بے باک مغربی ماڈل نے فحش حرکتوں سے توبہ کرکے اسلام قبول کرلیا، لیکن یہ کام کرتے ہی حکومت نے اس کے ساتھ کیا کیا اور اب وہ کہاں اور کس حال میں ہے؟ جان کر ہر مسلمان افسردہ ہوجائے لندن مانیٹرنگ ڈیسک برطانیہ کی معروف ماڈل کمبرلے مائنرس نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کرلیا تھا اور اپنے بے باک فوٹوشوٹس اور ماڈلنگ سے توبہ کرکے برقعہ پہننے لگی تھی۔ 27سالہ کمبرلے میں اس تبدیلی پر برطانوی پولیس اور ایجنسیاں متحرک ہو گئیں اور اس کی نگرانی شروع کر دی۔ گزشتہ روز پولیس نے کمبرلے کو گرفتار کر لیا اور الزام عائد کیا کہ اس کے شام و عراق میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کے ساتھ روابط ہیں۔آئی بی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کمبرلے نے”دی سن“ کے لیے کچھ نیم برہنہ فوٹو شوٹس کروائے تھے جہاں سے اسے شہرت ملی۔ پولیسکے مطابق وہ کچھ عرصے سے انٹرنیٹ پر داعش کی ویڈیوز لائیک کر رہی تھی اور دوسروں کو بھی بھیج رہی تھی۔ اس کے داعش سے وابستہ کچھ لوگوں کے ساتھ روابط بھی تھےجن میں ایک داعش کا ریکروٹر بھی تھا جو تنظیم کے لیے نئے لوگ بھرتی کرتا تھا۔رپورٹ کے مطابق پولیس نے داعش سے تعلق کے حوالے سے کئی باراسے وارننگ بھی دی تھی۔ گزشتہ روز پولیس کے شمال مشرقی انسداد دہشت گردی یونٹ نے اسے گرفتار کیا اور اس سے تفتیش کی گئی اور بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ پولیس نے اس کے بریڈ فورڈ، ویسٹ یارک شائرمیں واقع گھر کی تلاشی بھی لی۔

گیلیکسی نوٹ سیون فونز کی پروڈکشن بند


سیﺅل ‘جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے مبینہ طور پر اپنے سمارٹ فون گیلیکسی نوٹ سیون فونز کی پروڈکشن بند کر دی ہے۔اطلاعات کے مطابق کمپنی نے جو متبادل فراہم کیا ہے اس میں بھی بیٹری کا سنگین مسئلہ ہے۔خبررساں ایجنسی روئٹرز اور جنوبی کوریا کی خبررساں ایجنسی یونہاپ نے کمپنی کے حکام کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ کمپنی نے عارضی طور پر نوٹ سیون سمارٹ فون بنانا بند کر دیا ہے۔ سام سنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اسے بند کرنے کی خبر کی نہ تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ ہی تردید لیکن انھوں نے یہ بتایا کہ وہ اس کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے اسے درست کر رہے ہیں۔دو امریکی نیٹورکس کے اس فون کی فروخت یا اس کا متبادل فراہم کرنا بند کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے۔بیٹری میں خرابی کے متعدد واقعات کے بعد حال ہی میں سام سنگ نے نوٹ سیون کی فروخت روک دی تھی اور صارفین سے کہا تھا کہ وہ اپنے نوٹ سیون فون کو نئے ترمیم شدہ نوٹ سیون فون سے تبدیل کروا لیں۔لیکن امریکہ میں تبدیل کیے جانے والے کم از کم دوگیلیکسی نوٹ سیون سمارٹ فون میں بھی آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاعات ہیں۔یاد رہے کہ نوٹ سیون کی بیٹریوں میں خرابی کے باعث کمپنی نے اسے واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس ماڈل کے بعض فونز کی بیٹری چارج ہونے کے دوران پھٹ گئی تھیں جس کے بعد کمپنی نے فون کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔

ایسا آلہ تیار جو منٹوں میں آپ کے بھیگے فونز اور ٹیبلٹس کو ٹھیک کر دے

یہ لنچ بکس کی شکل کی ایک مشین ہے جو ایک طرح کا گرم ویکیوم چیمبر ہے اور وہ بہت مؤثر انداز میں اسمارٹ فون کی نمی کو جذب کرسکتی ہے ۔ 2011 میں اس کمپنی کے نائب سربراہ جوئے ٹرسٹی کی بیگم نے ان کا فون واشنگ مشین میں دھودیا تھا۔ اس کے بعد جوئے نے ایک ری ڈکس مشین بنائی اور اپنا فون زندہ کردکھایا۔اور اس کے چند ہفتوں بعد انہوں نے ریڈکس مشین کا پہلا تجارتی نمونہ بھی تیار کرلیا۔اس کے بعد گزشتہ برس امریکہ میں موبائل سروس فراہم کرنے والی اہم کمپنی ویرائزن نے ان سے 700 مشینین خرید کر انہیں 38 بڑے شہروں میں لگایا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ مشین موبائل فون سے پانی، شربت اور سافٹ ڈرنک وغیرہ کو 100 فیصد جذب کرلیتی ہے لیکن 100 فیصد فونز کو بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی کامیابی کا تناسب 84 فیصد ہے جو ایک اچھی شرح ہے۔ریڈکس بنانے والوں کا کہنا ہے جیسے ہی فون میں پانی چلاجائے تو فوراً اس کی بیٹری نکال لیں اور اسے آن کرنے کی کوشش نہ کریں۔اگر فون ، ٹیبلٹ ، ایم پی تھری پلیئرز اور دیگر آلات کو گیلا ہونے کے بعد بیٹری نکال لی جائے تو آلات کے درست ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس فون میں ویکیوم کی وجہ سے پانی کا نقطہ ابال کم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اندر حرارت دی جاتی ہے جو پانی کو بھاپ بنا کر غائب کردیتی ہے لیکن نازک برقی آلات خراب نہیں ہوتے۔ ریڈکس کمپنی عام فون کو ٹھیک کرنے کے لیے 5 ہزار روپے اور اسمارٹ فون کو درست کرنے کےلیے 9 ہزار روپے لیتی ہے۔

اب اسمارٹ فون سے ڈیلیٹ تصاویر واپس لانا بہت آسان

آج کے دور میں تصاویر سب سے
خوبصورت یادیں ہوتی ہیں کیمرے کے ذریعے لوگ اپنے اور اپنی فیملی کےساتھ گزارے گئے حسین پلوں کوقید کرلیتے ہیں اور کچھ عرصے بعد ان تصاویر کو دیکھ کرانہیں نہایت مسرت حاصل ہوتی ہے۔ اگر فون سے یہ تصاویر ڈیلیٹ ہوجائیں تو بہت افسوس ہوتاہے،کیونکہ ان سے لوگوں کی یادیں جڑی ہوتی ہیں،تاہم اب چند آسان طریقوں کو آزماکراسمارٹ فون سے غلطی سے ڈیلیٹ ہوئی تصاویر کو واپس لایا جاسکتا ہے۔اگر اسمارٹ فون سے تصاویر ڈیلیٹ ہوجائیں تو سب سے پہلے وائی فائی منقطع کردیں،اور موبائل کو ایروپلین موڈ پر ڈال دیں،اس طرح ڈیلیٹ کا عمل مکمل ہونے سے پہلے رک جائے گا۔اینڈرائیڈ صارفین اپنے فون سے ڈیلیٹ ہوجانے والی تصاویر کی ریکوری کیلئے ‘ڈسک ڈگر’نامی ٹول استعمال کریں،یہ ڈیوائس کے ‘کیشے’میں موجود تصاویر کو باہر نکالتا ہے،تاہم ان کا ریزولوشن متاثر ہوسکتا ہے۔گزشتہ سال آئی فون کے آئی او ایس میں ‘ریسنٹلی ڈیلیٹ ‘کااضافہ کیا گیا ہے،جہاں غلطی سے ڈیلیٹ ہوجانے والی تصاویر 30 دن تک موجود رہتی ہیں،اس آپشن کا استعمال کرکے آپ اپنی تصاویر کو واپس لاسکتے ہیں


///////وائی فائی کے لیے بھی پیسے دینا پڑیں، اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی؟////


آخرکار انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی انسانی حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سیاح بلاگر اور کمپیوٹر سکیورٹی انجینئر انیل پولاٹ ایک ایسا نقشہ تیار کر رہے ہیں جو دنیا بھر کے درجنوں ہوائی اڈوں پر وائی فائی کنکشنز کے پاسورڈز بتاتا ہے۔
ذرا یہ نقشہ دیکھیں۔ اس میں دنیا کے کئی ایئرپورٹس شامل ہیں۔ ان پر کلک کریں اور یہ آپ کو وائی فائی کا مقام اور اس کا پاسورڈ بتا دے گا۔
پولاٹ کی خواہش ہے کہ وہ دنیا کا ہر ملک دیکھیں۔ وہ فوسومیڈ نامی ایک بلاگ لکھتے ہیں جس کا مقصد لوگوں کو "بہتر سفر" میں مدد دینا ہے۔
ان کا یہ وائی فوکس نقشہ مسافروں کی جانب سے فراہم کی گئی مصدقہ معلومات کی بنیاد پر اپڈیٹ ہوتا رہتا ہے۔

////اگر آپ کا اسمارٹ فون بہت زیادہ گرم ہوجائے تو کیا کریں////




اگر آپ کا اسمارٹ فون بہت زیادہ گرم ہوجائے تو کیا کریں؟ ، دھواں نکلنے لگے یا آگ پکڑ لیں توکیا کرنا چاہئے؟اس کا جواب امریکا کے مشہور میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے دیا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر آپ کا اسمارٹ فون اوور ہیٹ یا بہت زیادہ گرم ہوجائے تو اگر وہ چارج پر لگا ہے تو فوری طور پر اس کی پن ساکٹ سے نکال لیں۔ان کے بقول ڈیوائس کو زیادہ گرم ہونے کی ابتدائی سطح پر روک دینا اسے پھٹنے سے بچا سکتا ہے تاہم آخری مرحلے پر اسے بچانا کافی مشکل ہوتا ہے۔اسی طرح اگر فون میں آگ لگ جائے تو اسے پہلے تو چارجنگ سے نکال کر اسے بجھانے کے لیے پانی کی بجائے کسی فائر بلینکٹ کا استعمال کریں یا ایسا کپڑا جو جلد آگ نہ پکڑتا ہو۔اسی طرح اگر معاملہ ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو تو امداد کے لیے رجوع کرنا چاہئے۔اگر تو آپ کے پاس گلیکسی نوٹ 7 ہے تو اچھا خیال تو یہی ہے کہ اسے کسی اور فون سے بدل لیں کیونکہ سام سنگ کے تبدیل ہونے والے نوٹ سیون میں بھی بیٹری مسائل کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔